27 مئی 2011 - 19:30

مندرجہ بالا تمام گزارشات کے مد نظر ہمارے ذہنوں میں ہر گز یہ خیال نہ جائے کہ پارا چنار کے باسی کوئی کمزور یا بزدل قوم ہیں۔ جنگجو قبائل پر مشتمل طالبان کی مانند یہ علاقہ بھی قبائلی روایات کا امین اور پاسدار ہے ،اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے پاس کربلا کا وہ مشرب ہے جو کسی اور قبیلہ کو نصیب نہیں ۔حکومت وقت اور پاک افواج کے سرکردگان کو چاہیئے کہ فورا سے پہلے اس وادی کا امن ان کے گھروں میں لوٹا دیں اس سے پہلے کہ حسین ابن علی کی اولاد اور ان کے چاہنے والے اک نئی کربلا کی جانب چل پڑیں۔

پاکستان کا غزہ

سیداسد عباس تقوی

غزہ نام ہے محاصرے کا، غزہ نشان ہے مظلومیت کا ،غزہ آواز ہے نہتے مجاہدوں کی جو دنیا کی طاقتور اور غاصب فوج کی اندھا دھند کاروائیوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔غزہ سمبل ہے معصوم کلیوںکا جو اسرائیلی افواج کی وحشیانہ بمباری کے سبب کھلنے سے قبل ہی مرجھا گئیں۔کون نہیں جانتا کہ اسرائیلی افواج نے غزہ کے مظلوموں کے ساتھ کیا کیا ظلم روا رکھے،کون نہیں جانتا کہ کتنا عرصہ غزہ کے محاصرین ضروریات زندگی مثلا خوراک ،بجلی،گیس، اور ادویات کو ترستے رہے۔پوری مسلم دنیا اس بربریت پر نوحہ کناں ہے اگرچہ عملی طور پر بہت کچھ کیا جانا باقی ہے تاہم غزہ کے مسائل لوگوں کی نگاہوں میں ہیں اور غزہ کے باسی اس امید پر زندہ ہیں کہ آج نہیں تو کل یقینا کوئی ہماری دادرسی کرے گا۔

1سرزمین پاک پر بھی ایک ایسا ہی خطہ زمین ہے جو گزشتہ چار سال سے غزہ کی مانند ملک کے دیگر حصوںسے کٹا ہوا ہے اور طرفہ تماشہ یہ کہ ان محصورین کے بارے میں غیر تو کیا اپنوں کو ہی کچھ معلوم نہیں ۔ان کے شب و روز اس امید سے خالی ہیں کہ یقینا کل کوئی ہماری داد رسی کو آئے گا۔گذشتہ چار سال سے اس خطہ زمین کا زندگی کی بنیادی ضروریات خوراک،ادویات حاصل کرنے کا واحد راستہ ایک نام نہاد جہادی گروہ کی چیرہ دستیوں کے باعث متروک ہو چکا ہے۔اس راستہ سے جانے والی خوراک اور ادویات کے ٹرک لوٹ لئے جاتے ہیں اور مسافروں کو نشان عبرت بنانے کی خاطر لکڑی کاٹنے والے آروں کی مدد سے ٹکڑے ٹکڑے کرکے بطور تحفہ ان کے عزیزوں کو بھیج دیا جاتا ہے اور بربریت کی انتہا یہ کہ ان ٹکڑوں کے ساتھ قاتل قتل کا ثبوت یعنی مقتولین کی آہ و بکا کی ویڈیوز بھی ان کے اہل خانہ کو بھیجتے ہیں کہ ہم نے اس انداز میں تمہارے پیاروں کو ذبح کیا اور ان بے کسوں نے یوں تڑپ تڑپ کر اپنی جان جان آفرین کے سپرد کی۔یہ الفاظ تحریر کرتے ہوئے احساس کرتا ہوں کہ میں یہ سب کچھ کیوں لکھ رہا ہوں ،کس سے فریاد کر رہا ہوں ،کس کو غم سنا رہا ہوں ۔پاکستانی عوام تو خود مظلوم ہیں مہنگائی،مسائل کی بہتات اور انشنوائی جیسے مظالم روز ان مظلوموں پر ٹوٹتے رہتے ہیں جب یہ بیچارے اپنی ذات پر پڑنے والی افتاد وں کو نہیں سلجھا سکتے تو کسی دوسرے کے غم کا کیا مداوا کریں گے۔ظالم کے حربوں میں سے ایک حربہ یہ بھی ہے کہ مسائل کو اس قدر گھمبیر کردو کہ کوئی بھی شخص دوسرے کی دادرسی کا سوچ بھی نہ سکے۔مگر میں اس کالم کے ذریعے ظالم کے اس حربے کو ناکام بنا کر تما م قارئین کو دعوت دیتا ہوں کہ اپنے مسائل کے ساتھ ساتھ اپنے اردگرد بسنے والے لوگوں کے مسائل کو بھی اہمیت دیں شاید کہ آپ کی ذرا سی توجہ کسی مظلوم کے دل میں امید کا وہ چراغ روشن کردے جس کے سبب مظلوم اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی سیہ رات کو سحر جاوداں میں بدل سکے۔طالبان پاکستان میں مذہب کے نام پر اٹھنے والی وہ تحریک ہے جس نے ہر مدمقابل پر کفر کا فتوی لگایا،چاہے وہ سنی تھا یا شیعہ ۔جو بھی ان کے ہتھے چڑھا اسے ذبح کرکے انھوں اپنی بربریت کو تسکین دی ۔وہ خود کش حملے کرتے ہیںتو اس تمیز کے بغیر کہ اس حملے میں جاں بحق ہونے والے افراد مجرم ہیں بھی یا نہیں۔انسانی جان !کو ان درندوں نے اس قدر بے و قعت اور بے اہمیت بنا دیا کہ جیسے کوڑے پر اگنے والی گھاس۔ اور اس پر دیدہ دلیری یہ کہ اپنے تمام اعمال کو اسلام سے تطبیق دیتے ہیں۔قرآن واشگاف الفاظ میں کہتا ہے کہ وہ شخص جس نے کسی بے قصور کو قتل کیا تو گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔قرآن جہاد کے بارے میں واضح الفاظ میں کہتا ہے کہ دشمن کے املاک کو نقصان نہ پہنچاﺅ،نہتھے لوگوں پر حملہ نہ کرو،ان کے جانوروں کو ہلاک نہ کرو،ان کی چراگاہوں کو برباد نہ کرو۔اسلام جیسے مہذب دین کو ان ناہنجاروں نے اپنی بربریت کے سبب دنیا میں بدنام کیا اور اسلام کی وہ تصویر دنیا کے سامنے پیش کی جس کے سبب کوئی بھی مہذب انسان اسلام کا نام سنتے ہی منگول اور نازی مظالم کو ذہن میں لائے بغیر نہیں رہ سکتا۔عام مسلمانوں کے ساتھ ان کا رویہ تو شاید قدرے بہتر ہو شیعہ فرقے سے ان کی دشمنی نہ جانے کن بنیادوں پر قائم ہے۔اس مخاصمت کے ڈورے کن تاریخی حقائق کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آج چار سال گذرنے کے باوجود پاڑہ چنار کوپاکستان کے دیگرعلاقوں سے ملانے والی واحد سڑک طالبان کے ناقوں کی سبب عملا بند ہے۔آئے روز خیبر ایجنسی ،مالاکنڈ،اورکزئی ایجنسی،اور وزیرستان کے ان تکفیری مجاہدین کے لشکر پاڑہ چنار کی شیعہ اکثریتی آبادی پر حملے کرتے رہتے ہیں۔اپنے قارئین کی معلومات کے لئے یہ بتاتا چلوں کہ پاڑہ چنار پاکستان کے صوبہ سرحد کی وہ ایجنسی ہے جہاں شرح تعلیم نوے فیصد ہے،اس خطہ زمین نے پاکستان کو کئی اعلی فوجی افسر اور سول سرونٹس دیئے جن میں کئی سابق جرنیل اور ہوائی فوج کے سابق چیف شامل ہیں ۔یہ خطہ زمین اگرچہ جغرافیائی طور پر ایجنسی کے علاقے میں آتا ہے تاہم اس علاقے میں معیار تعلیم کسی طرح بھی اسلام آباد کے معیار تعلیم سے کم نہیں اور یہ سب کچھ اس علاقے کے مقامی افراد کی کوششوں اور محنتوں کا ثمر ہے۔پاڑہ چنار اور اس کے مضافاتی علاقے کرم ایجنسی کا وہ حصہ ہیں جہاں اسلحہ کی نمائش پر پابندی ہے،یقینا قارئین اس انکشاف پر حیران ہوئے ہوں گے کہ ایجنسی کا علاقہ اور اسلحہ کی نمائش پر پابندی،تاہم شرح تعلیم کے تناظر میں یہ بات کسی طور بھی حیران کن نہیں۔پاڑہ چنار انتہائی زرعی زمین کا حامل ہے ،یہاں کے باسی انتہائی محنتی اور اپنی روایات اور اقدار کے پاسدار ہیں ۔پہلی مرتبہ جرنل ضیاءالحق کے دور میں اس خطہ کو مصیبت کا سامنا ہوا جب افغان مہاجرین کو اس علاقے میں آباد کیا گیا ۔اس آبادی کا سبب علاقے کی جغرافیائی اہمیت تھی چونکہ پاڑہ چنار اور کرم ایجنسی پاکستان میں ہونے کے باوجود تین اطراف سے افغانستان میںگھری ہوئی ہے۔اس لئے وہ مہاجرین جو خصوصا جنگی کاروائیوں میں حصہ لیتے تھے اس علاقے میں آباد ہوئے تاکہ وہ آسانی سے سرحد پار کرکے روسی افواج پر حملے کر سکیں ۔پاڑہ چنار کے باسیوں نے ان مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور ان کے حملوں کی قیمت اپنے گھروں اور معیشت کی بربادی کی صورت میں ادا کرتے رہے۔افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد اس علاقے کو خاص فرقے سے تمسک کی بنیاد پر اکثر و بیشتر راکٹوں اوربھاری ہتھیاروں سے حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا،پاکستان میں تحریک طالبان کے وجود میں آنے کے بعد اس خطہ زمین اور اس کے باسیوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔آئے روز کی لشکر کشیاں،راکٹ حملے،عام آبادی پر بھاری ہتھیاروں کا استعمال روز کا معمول بن گیااور سونے پر سہاگہ یہ کہ رسل ورسائل کے واحد ذریعہ ٹل پاڑہ چنار روڈ کو ناقے لگا کر بند کر دیا گیا۔گذشتہ چار سال سے پاڑہ چنار کے وہ باسی جو پاکستان کے دیگر علاقوں میں ملازمت یا تعلیم کے سلسلے میں قیام پذیر ہیں اپنے گھروں کو نہیں جاسکتے،اور پاڑہ چنار کے وہ باسی جو اس وادی میں محصور ہیں کسی صورت بھی پاکستان نہیں آسکتے۔کئی مریض ادویات اور صحت کی بہتر سہولیات کی عدم دستیابی کے سبب ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے گئے، زخمی بچے ،بوڑھے ،خواتین اور نوجوان ادویات نہ ہونے کے عث ہسپتالوں کے فرش پر سسک سسک کر جان دیتے رہے۔آپ سے کیا سوال کروں ؟حکومت وقت تمام حالات سے آگاہ ہونے کے باوجود نہ جانے کس مصلحت کا شکار ہے ؟کون سے ایسے نادیدہ ہاتھ ہیں جو نسل پرستی اور فرقہ پرستی کی بنیاد پر پاکستان کی اس محب وطن ایجنسی کے لاکھوں باسیوں پر ظلم و بربریت کو روا رکھے ہوئے ہے ؟کون سی ایسی طاقت ہے جو میڈیا کے آزاد قلم کو اس علاقے میں ہونے والے ظلم کی عکاسی کرنے سے روکتی ہے ؟کون سے ایسے عوامل ہیں جس کے سبب آزاد عدلیہ اس علاقے پر ہونے والے گذشتہ چار سال کے مظالم کا حساب نہیں لے رہی ؟مندرجہ بالا تمام گزارشات کے مد نظر ہمارے ذہنوں میں ہر گز یہ خیال نہ جائے کہ پارا چنار کے باسی کوئی کمزور یا بزدل قوم ہیں۔ جنگجو قبائل پر مشتمل طالبان کی مانند یہ علاقہ بھی قبائلی روایات کا امین اور پاسدار ہے ،اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے پاس کربلا کا وہ مشرب ہے جو کسی اور قبیلہ کو نصیب نہیں ۔حکومت وقت اور پاک افواج کے سرکردگان کو چاہیئے کہ فورا سے پہلے اس وادی کا امن ان کے گھروں میں لوٹا دیں اس سے پہلے کہ حسین ابن علی کی اولاد اور ان کے چاہنے والے اک نئی کربلا کی جانب چل پڑیں۔........./110

- پاکستانی غزہ "پاراچنار" کو دہشت گردوں سے بچاؤ

- پاراچنار سے غزہ تک ایک ہی کہانی

- پاکستانی غزہ کر م ایجنسی پاراچنار کو طالبان دہشت گردوں کے محاصرے

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت  

- رہبر انقلاب اسلامی کے فتاوی کے بارے میں آیت اللہ سیستانی کا فتوی / اپڈیٹ